Terrorism News/Incidents in Pakistan


#1425

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

صوماليہ ميں درجنوں معصوم شہری الشباب کے ايک اور وحشيانہ حملے کا نشانے بنے

https://www.state.gov/r/pa/prs/ps/2017/10/274803.htm

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


#1427

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

افغانستان – داعش کا بچوں کی تنظيم پر حملہ

ايک بار پھر دہشت گردوں کی جانب سے معاشرے کے غير محفوظ طبقے کو دانستہ نشانہ بنايا گيا۔

داعش کی جانب سے بچوں کی بہبود کے ليے کوشاں “سيو دا چلڈرن” جيسی معروف عالمی تنظيم پر ظالمانہ حملے نے ان کے اس لغو دعوے کی حقيقت بے نقاب کر دی ہے کہ وہ معاشرے کے پسے ہوۓ طبقے کی حفاظت کے ليے اپنی نام نہاد خلافت کی راہ ہموار کر رہے ہيں۔

اس حوالے سے کوئ ابہام نہيں ہونا چاہيے۔ بچوں اور ان افراد پر حملہ جو بے يارومددگار بچوں کی مدد کے ليے کوشاں ہیں، کوئ مقدس لڑائ يا آزادی کی جدوجہد نہيں بلکہ بزدلی اور بدترين دہشت گردی کے زمرے ميں آتا ہے۔

“سيو دا چلڈرن” ايک ايسی تنظيم ہے جس نے کافی عرصے سے انتہائ شفاف انداز ميں دنيا بھر ميں مقامی حکومتوں اور متعلقہ عہديداروں کے ساتھ مکمل تعاون سے فرائض سرانجام ديے ہيں۔

يہ بے سروپا دليل اور توجيہہ کہ اس قسم کے حملے کسی بھی طور جائز قرار ديے جا سکتے ہيں کيونکہ يہ امريکی يا مغربی مفادات کو نقصان پہنچانے کے ليے ہيں – بالکل لغو ہيں۔ حقيقت يہ ہے کہ سيو دا چلڈرن نامی يہ تنظيم سال 1976 سے افغانستان ميں سرگرم عمل ہے جس دوران صحت، تعليم اور غذائ تحفظ سے متعلق منصوبوں پر عمل کيا گيا اور اس کے مثبت اثرات لاکھوں بچوں اور ان کے خاندانوں تک پہنچے۔

يہ تصور کہ چند گنے چنے غيرملکی کارکن اور رضاکار جو مقامی افغان اہلکاروں اور ملازمين کے مکمل تعاون، حمايت اور افغان حکومت کی اجازت اور علم کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہيں، ان پر حملوں سے داعش کے يہ دہشت گرد “مقدس جنگجو” کا درجہ حاصل کر ليں گے صرف ايک مضحکہ خيال کہانی ہی تصور کيا جا سکتا ہے۔

“سيو دا چلڈرن” نے 120 سے زائد ممالک ميں اپنی خدمات سرانجام ديں اور اس دوران امريکہ اور ديگر ممالک ميں لاکھوں بچوں کی مدد کی گئ۔

انسانی بنيادوں پر اس تنظيم کی عالمی کاوشوں سے متعلق رپورٹ کا لنک پيش ہے۔

https://campaigns.savethechildren.net/report

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


#1428

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

افغانستان – عام شہری ايک بار پھر نشانہ – دہشت گردوں کی بزدلی عياں

افغانستان کے شہر کابل ميں نہتے شہريوں پر ايک اور دانستہ حملہ جس کا واحد مقصد زيادہ سے زيادہ بے گناہوں کو ہلاک کرنا تھا۔ حملے ميں 22 شہری ہلاک ہوۓ۔ دہشت گردوں نے چودہ گھنٹے تک شہريوں کو يرغمال بناۓ رکھا جس دوران درجنوں شہری شديد زخمی بھی ہوۓ۔

قريب 150 شہريوں کو محفوظ مقام تک پہنچايا گيا جن ميں 41 غير ملکی شہری بھی شامل تھے۔
ہلاک ہونے والوں ميں امريکی شہريوں کے علاوہ، يوکرائن کے چھ شہری، وينزيليا کے دو کپتان، کازگستان کا ايک شہری اور ايک شہری جرمنی کا بھی شامل تھا۔

سال 2011 ميں بھی اسی ہوٹل کو دہشت گردی کا نشانہ بنايا گيا جس کے نتيجے ميں 21 شہری ہلاک ہوۓ تھے۔

طالبان نے انتہائ ڈھٹائ کے ساتھ اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، باوجود اس کے کہ ان کی جانب سے بارہا يہ دعوی کيا جاتا ہے کہ وہ نہتے شہريوں پر حملے نہيں کرتے ہيں۔

بچوں سميت مقامی افغان شہريوں کی تصاوير ديکھنے کے باوجود کوئ بھی اس دليل پر کيسے قائل ہو سکتا ہے کہ طالبان کے حملے ميں شہريوں کو نشانہ نہيں بنايا گیا تھا۔

طالبان کی جانب سے يہ لغو دعوی کہ وہ صرف عسکری عمارات کو نشانہ بناتے ہيں اس ليے بھی ناقابل فہم ہے کيونکہ اس حملے کے بعد درجنوں عام شہری ہلاک ہوۓ اور سينکڑوں زخمی ہوۓ۔

حملے کی سنگينی اور بے شمار ہلاکتوں سے واضح ہے کہ حملے کا مقصد کسی مخصوص عسکری مقام يا چند افراد کو ٹارگٹ کرنا نہيں بلکہ دانستہ زيادہ سے زيادہ عام شہريوں کو ہلاک کرنا تھا تا کہ دہشت اور بربريت پر مبنی اپنی مہم کو وسعت دی جا سکے۔

مسلح طالبان تواتر کے ساتھ يہ دعوی کرتے ہيں کہ وہ کسی بھی طور عام افغان شہريوں کو محفوظ کرنے کی سعی کر رہے ہيں۔ يہ دليل اس ليے بھی ناقابل فہم ہے کيونکہ ايک عشرے سے زائد عرصے پر محيط ان کے مظالم اور طريقہ کار سے واضح ہے کہ ان کی تمام تر توجہ اسی بات پر رہی ہے کہ خودکش حملوں، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور عوامی مقامات، عمارات اور اہم شہری اثاثوں کی بربادی جيسی کاروائيوں کو بطور جنگی حکمت عملی کے استعمال کيا جاۓ۔

يہ بات حيران کن ہے کہ بعض راۓ دہندگان ابھی تک سرحد کے دونوں جانب طالبان اور دہشت گردوں کی کاروائيوں اور ان کے مجموعی رويے کے حوالے سے تذبذب اور ابہام کا شکار ہيں اور اس پر بحث کرتے رہتے ہيں۔ بدقسمتی سے يہ دہشت گرد اپنے طرزعمل کے ضمن ميں ايسے کسی مخمصے کا شکار نہيں ہيں۔ يہ اپنی مخصوص سوچ اور نظريے پر کامل اور پختہ يقین رکھتے ہیں۔ يہ اپنے آپريشنز کی تکميل ميں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہيں کرتے اور بے گناہ انسانوں کے خلاف جاری دہشت گردی کی مہم کو جاری رکھنے ميں انھيں کوئ پيشمانی نہيں ہے۔

جو راۓ دہندگان دہشت گرد کے ہر واقعے کے بعد بال کی کھال اتارنے لگتے ہيں اور محض بحث در بحث کو بنياد بنا کر دہشت گردوں کی کاروائيوں کے حوالے سے شکوک اور شبہے کا اظہار کرتے ہیں انھيں چاہيے کہ وہ مجموعی صورت حال اور زمين پر موجود حقائق کا جائزہ لیں اور اس حقیقت کا ادراک کريں کہ بے گناہ شہريوں، عورتوں اور بچوں کی حفاظت ان کے لائحہ عمل کا حصہ نہيں ہے۔ اس کے برعکس وہ انسانی جانوں کے ضياع کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہيں تا کہ ان تصاوير کے ذريعے اپنی خونی سوچ کا پرچار کريں اور اپنی صفوں ميں مزيد افراد کو شامل کريں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


#1429

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

داعش نے بچوں پر اپنے سفاک نظریات ٹھونسے کی کوششیں کی۔ ایسے کئی متاثرہ بچے نفسیاتی علاج کی مدد سے بحالی کیلئے پُرامید

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


#1430

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

دہشتگردوں اور شدت پسندوں کا اپنے سیاسی ايجنڈے کے حصول کی خاطر انسانيت کے خلاف بربريت کا سلسلہ بدستور جاری

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu




#1432

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

انعام براۓ انصاف

دہشت گردوں کو روکيں – زندگياں بچائيں

تحریک طالبان پاکستان اور اس کے دھڑوں کے اہم رہنماؤں کے بارے میں معلومات پر انعام کی پیشکش

واشنگٹن: امریکی دفتر خارجہ کا ‘انعام برائے انصاف’ پروگرام دہشت گرد تنظیم ‘تحریک طالبان پاکستان’ (ٹی ٹی پی) اور اس سے ملحقہ دھڑوں سے وابستہ تین اہم رہنماؤں کی شناخت یا ان کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات پر انعامات کی پیشکش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں دفتر خارجہ نے ٹی ٹی پی کے رہنما مولانا فضل اللہ کے بارے میں پانچ ملین ڈالر جبکہ عبدالولی اور منگل باغ کے بارے میں اطلاع دینے پر تین تین ملین ڈالر انعام کی پیشکش کی ہے۔

مولانا فضل اللہ دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا رہنما ہے جس نے پاکستانی اور امریکی مفادات کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں یکم مئی 2010 کو نیویارک سٹی میں ٹائم سکوائر پر فیصل شہزاد کی جانب سے دھماکہ خیز مواد سے حملے کی ناکام کوشش بھی شامل ہے۔ فضل اللہ کی قیادت میں ٹی ٹی پی نے 16 دسمبر 2014 کو پاکستانی شہر پشاور میں سکول پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی جس میں 132 طلبہ سمیت 148 افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ فضل اللہ جون 2012 میں 17 پاکستانی سپاہیوں کے سر قلم کرنے اور 9 اکتوبر 2012 کو پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر حملے کا بھی ذمہ دار ہے۔ 2015 میں دفتر خارجہ نے فضل اللہ کو انتظامی حکم 13224 کے تحت خصوصی طور پر نامزد کردہ عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا جس کے نتیجے میں امریکی حدود میں اور امریکی شہریوں کے پاس اس کے تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے۔

عبدالولی ٹی ٹی پی سے ملحقہ عسکریت پسند دھڑے جماعت الاحرار (جے یو اے) کا رہنما ہے۔ ولی کی قیادت میں جے یو اے نے خطے میں متعدد حملے کیے جن میں عام شہریوں، مذہبی اقلیتوں، فوجی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے حکام کو نشانہ بنایا گیا۔ عبدالولی مارچ 2016 کے اوائل میں پشاور میں امریکی قونصل خانے کے دو پاکستانی ملازمین کے قتل کا ذمہ دار بھی ہے۔

منگل باغ ٹی ٹی پی سے ملحقہ عسکری پسند دھڑے ‘لشکر اسلام’ کا رہنما ہے۔ اس کی قیادت میں لشکر اسلام کے آلہ کاروں نے نیٹو کے قافلوں کو نشانہ بنایا۔ اس کا گروہ منشیات کی تجارت، سمگلنگ، اغوا اور پاکستان اور افغانستان کے مابین ٹرانزٹ تجارت سے ‘محصول’ اکٹھا کرتا ہے۔ ستمبر 2007 میں حکومت پاکستان نے اسے پکڑنے یا اس کی گرفتاری میں معاون معلومات کی فراہمی پر قریباً 60 ہزار ڈالر کے مساوی انعامی رقم کا اعلان کیا تھا۔

ان میں ہر ایک نے دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہے یا ان کی جانب سے ایسی کارروائیوں کا نمایاں خدشہ موجود ہے جن سے امریکہ اور اس کے شہریوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ پاکستانی فوج کے خلاف جنگ کے علاوہ افغانستان سے اتحادی افواج کو باہر نکالنا بھی ٹی ٹی پی کا ایک ہدف ہے۔ اس گروہ کا القاعدہ کے ساتھ قریبی اتحاد ثابت ہے اور 2008 سے اس نے تواتر سے امریکی سرزمین پر حملوں کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔

انعامات کی اس پیشکش کی بابت مزید معلومات ‘انعام برائے انصاف’ کی ویب سائٹ www.rewardsforjustice.net پر موجود ہیں۔ ہم ان لوگوں کے بارے میں اطلاعات رکھنے والے ہر شخص کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ویب سائٹ، ای میل (info@rewardsforjustice.net) فون (شمالی امریکہ میں1-800-877-3927) یا اس پتے (انعام برائے انصاف، واشنگٹن ڈی سی 20520-0303 یو ایس اے) پر رابطہ کرے۔ لوگ اپنے قریب ترین امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے میں علاقائی سلامتی کے دفتر سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ اطلاع دینے والوں سے متعلق تمام معلومات صیغہ راز میں رکھی جائیں گی۔

‘انعام برائے انصاف’ پروگرام امریکی دفتر خارجہ کی سفارتی سکیورٹی سروس کے زیراہتمام چلایا جاتا ہے۔ 1984 میں آغاز کے بعد اب تک اس پروگرام کے تحت قابل عمل اطلاعات دینے والے 90 سے زیادہ لوگوں کو 145 ملین ڈالر سے زیادہ رقم ادا کی جا چکی ہے جنہوں نے دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے یا دنیا بھر میں دہشت گردی کے افعال کی روک تھام میں مدد فراہم کی۔ ٹویٹر پر ہمیں اس لنک کے ذریعے فالو کیجیے

https://twitter.com/Rewards4Justice

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


#1433

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

شامی شہر دوما پر کیمیائی حملہ

ہم 7 اپریل کو شام کے شہر دوما میں ایک اور کیمیائی حملے سے متعلق پریشان کن اطلاعات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ اس مرتبہ ایسے حملے میں ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ متعدد رابطوں اور وہاں موجود طبی عملے کے افراد سے ملنے والی اطلاعات سے نشاندہی ہوتی ہے کہ اس حملے میں ممکنہ طور پر بڑا جانی نقصان ہوا اور پناہ گاہوں میں موجود خاندان بھی اس کا نشانہ بنے۔ اگر ایسی اطلاعات درست ہیں تو یہ ایک ہولناک صورتحال ہے جو عالمی برادری کی جانب سے فوری ردعمل کا تقاضا کرتی ہے۔
امریکہ شام سمیت ہر جگہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کے احتساب کے لیے ہرممکن کوششیں بروئے کار لا رہا ہے۔ شامی حکومت کی جانب سے اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں کے واقعات شبے سے بالاتر ہیں اور درحقیقت قریباً ایک سال قبل 4 اپریل 2017 کو بھی اسد کی افواج نے خان شیخون میں سرن گیس سے حملہ کیا تھا جس میں قریباً 100 شامی ہلاک ہوئے۔

شامی حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کا احتساب اور ایسے مزید حملوں کی فوری روک تھام ہونی چاہیے۔ روس پر بھی ایسے وحشیانہ حملوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو اسد حکومت کی مسلسل حمایت کر رہا ہے۔ ان حملوں میں بے شمار شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور کیمیائی ہتھیاروں سے شام کے انتہائی کمزور لوگوں کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ روس نے اپنے اتحادی شام کو تحفظ دے کر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے سلسلے میں ضمانتی کے طور پر اقوام متحدہ سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ روس کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2118 کے حوالے سے دھوکہ دہی کا مرتکب ہوا ہے۔ روس کی جانب سے اسد حکومت کے تحفظ اور شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے میں ناکامی سے مجموعی بحران کے حل اور کیمیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ترجیحات بارے اس کے عہد پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔

امریکہ روس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شامی حکومت کی قطعی حمایت فوری بند کرے اور مزید وحشیانہ کیمیائی حملوں کی روک تھام کے لیے عالمی برادری سے مل کر کام کرے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


#1434

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

داعش اور طالبان کے مسلح گروہ - ٹھگوں کی آپس کی لڑائ

افغانستان سے حاليہ دنوں ميں سامنے آنے والی کچھ رپورٹس جن سے خطے ميں داعش اور طالبان کے مختلف دھڑوں کے درميان شديد کشيدگی اور باہمی چپقلش بے نقاب ہو رہی ہے۔

افغانستان ميں طالبان پر داعش کے خود کش بمبار کا حملہ – 20 ہلاک

http://www.xinhuanet.com/english/2018-07/16/c_137328763.htm

افغانستان کے صوبہ جازوان ميں داعش اور طالبان کے درميان شديد لڑائ جس کے نتيجے ميں دس افراد ہلاک ہو گۓ۔

داعش کے حملے کے نتيجے ميں 15 افغان طالبان ہلاک۔

دہشت گرد تنظيموں اور ان کے سرغناؤں نے متعدد بار اپنی پرتشدد کاروائيوں سے يہ ثابت کيا ہے کہ ان کا ہدف عام لوگوں پر اپنی مرضی مسلط کرنا ہے۔ امن اور عام شہريوں کے ليے تحفظ کا حصول ان کی حکمت عملی ميں شامل نہيں ہے۔

چاہے وہ داعش ہو يا طالبان کے مسلح گروہ – يہ دہشت گرد اور انتہا پسند اس بات کا دعوی تو کرتے ہيں کہ وہ بيرونی قوتوں کے خلاف عام لوگوں کی آزادی کے ليے اپنی “جدوجہد” جاری رکھے ہوۓ ہيں۔ تاہم جب انھيں اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ کوئ اور گروہ سياسی اثرورسوخ حاصل کر رہا ہے تو پھر يہ اپنی اصليت سب پر واضح کر ديتے ہيں اور اپنے مخالف دھڑوں کو منظر سے ہٹانے کے ليے وہی خونی حربے استعمال کرتے ہيں جو ان کی ترجيحی حکمت عملی رہی ہے۔

اس حوالے سے کوئ ابہام نہيں رہنا چاہيے۔ يہ عناصر خود کو سياسی فريق کے طور پر پيش کرنے کی خواہش تو رکھتے ہيں تاہم اختلافات اور تنازعات کو ختم کرنے کے ليے ان کے طريقہ کار اور سوچ سے يہ واضح ہے کہ ان کے اعمال ان کے بيانات اور دعوؤں سے مطابقت نہيں رکھتے ہيں۔

يہ کوئ اچنبے کی بات نہيں ہے کہ پرتشدد انتہا پسندوں کے مختلف گروہوں کے درميان سياسی اثر، طاقت کے حصول اور اپنی اجارہ داری کے ليے جاری مسلسل مڈبھيڑ بالآخر ايک خون آشام لڑائ کی صورت اختيار کر گئ اور اس کے ساتھ ہی ان مجرموں اور ان کی خود ساختہ مقدس جدوجہد کی حقيقت بھی سب پر آشکار ہو گئ۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


#1435

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

افغانستان ميں بربريت کی تازہ مثال

افغان عوام بدستور دہشتگردوں اور شدت پسندوں کی بربريت کا شکار –

خبروں کے مطابق کابل میں ايک تعليمی مرکز پر ہونے والے خودکش حملے میں متعدد افغان شہری جانبحق

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


#1436

The woman answering press questions in picture above is a liar as evidenced from Mike Pompeo call saga.


#1437

افغانستان ميں طالبان کی بربريت جاری

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

ہر گزرتے دن کے ساتھ افغانستان ميں فعال ان پرتشدد انتہا پسند دہشت گردوں کی حقيقت عوام پر واضح ہوتی جا رہی ہے جو خود کو بيرون ممالک سے آۓ ہوۓ مبينہ جارح قوتوں کے مقابلے ميں آزادی کے سپاہيوں کے طور پر پيش کرتے تھے۔

حاليہ واقعات ميں دو سو سے زائد افغان فوجی، پوليس اہلکار اور عام شہری ان مجرموں کی کاروائيوں کے نتيجے ميں ہلاک ہو چکے ہيں جو اس بات پر بضد ہيں کہ وہ عام شہريوں کو آزاد کروانے کے ليے قابض قوتوں کے خلاف لڑ رہے ہيں۔

کسی بھی ذی شعور کے ليے يہ سمجھنا دشوار ہے کہ کس پيمانے اور معيار کو بنياد بنا کر يہ دعوی کيا جاتا ہے کہ افغانستان پر غير ملکی تسلط ہے، کيونکہ يہ تو افغانستان کے مقامی لوگ ہيں جن کے ووٹ لے کر موجود حکمران برسر اقتدار آۓ ہيں اور اپنی ہر پاليسی اور اقدامات کے ليے وہ اپنے ووٹرز کے سامنے جواب دہ ہيں۔

طالبان کے حمايتيوں اور ترجمانوں کی جانب سے اپنی نام نہاد فتح کے غير منطقی اور احمقانہ دعوے کوئ غير متوقع يا انہونی بات نہيں ہے باوجود اس کے کہ تمام تر شواہد اس کے برعکس ہيں۔

دہشت گرد تنظيموں اور طالبان کے سپورٹرز کے نقطہ نظر سے اگر ديکھيں تو يہ بات سمجھنا آسان ہے کہ وہ کيونکر "بيرونی حملہ آوروں" کے جھوٹے نعرے کا سہارا لينے کے ليے بے تاب ہيں کيونکہ آزادی کی تحريک کے دلفريب دعوے کے سوا ان کے پاس اپنی کاروائيوں کے ليے کسی بھی قسم کی عوامی حمايت کرنا ممکن نہيں ہے۔ تاہم گزشتہ دو دہائيوں کے دوران افغانستان کے عام شہريوں کے خلاف ان کے بلاتفريق غير انسانی حملوں نے ان کے اہداف اور اصل فطرت کو سب پر عياں کر ديا ہے جس کی بدولت وہ اب افغانستان کے عوام اور ملک کے مستقبل کے ليے غير اہم ہو چکے ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ