ICC Cricket Worldcup 2011


#1

With just 12 days remaining for the ICC Cricket worldcup 2010 having a look at the schedule of matches is a must. Get your days off for the matches you don't want to miss or you'll be the one missing all the action. The fixture of matches follows at the end of this post.

The Cricket World cup 2011 - jointly hosted by India, Sri Lanka and Bangladesh is the biggest tournament in cricket. There was a big competition for the broadcasting rights. ICC sold the broadcasting rights to ESPNStar for about $2 billion. The cricket world cup will be shown all over the world in about 220 countries.

The matches are available for viewing on the following channels which are aired by the local cable usually across Pakistan,

1- Geo Super

2- Patkistan Television Network (PTN)

3- Sky Sports

4- ESPNStar

5 - DD National (Doordarsan) - Can be recieved by antenna for people living near the Pak-Indian border

6 - Super sport

[The matches held in Srilanka will start at 9:00 AM PST, Matches in Bangladesh at 1:30 PM and India at 2:00 PM] >> Wrong timings, will correct soon.

The schedule of the matches is for,

Group A : Australia,Pakistan, Nеw Zealand, Sri Lanka, Zimbabwe, Canada, Kenya.

Group B : India, South Africa, England, West Indies, Bangladesh, Ireland, Netherlands.

icccricketworldcup20111.jpg

icccricketworldcup20111.jpg


#2

http://www.wiredpakistan.com/forums/viewtopic.php?id=12814


#3

This one is dedicated to the worldcup only :)... please do not destroy the wordcup spirit :P


#4

Cool !

we are having a nashta g2g in our university for Canada Vs Pakistan match !

Either side wins, we are the winners :)


#5

Correction!

The matches held in Srilanka will start at 9:00 AM PST, Matches in Bangladesh at 1:30 PM and India at 2:00 PM.

Nopes pakistan first match will start at 2 PM PST in srilanka and Second Match in Chennai India will start at 9 AM PST

dzuglf.png


#6

I'll have a look in the timings again, maybe i miscalculated them. Thnks for the correction.


#7

پاکستانی ٹیم ’’ غیر یقینی ٹیم ‘‘ ہے کوئی بھی اپ سیٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے

شاہد آفریدی کی قیادت میں قوت سے جم کر کھیلی تو کئی بازیاں پلٹ سکتی ہے جائزہ رپورٹ

اسلام آباد ‘ عالمی کرکٹ کپ 2011 رواں ماہ کی 19 تاریخ سے شروع ہورہا ہے۔ دنیائے کرکٹ کے اس سب سے بڑے مقابلے میں کل 14 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جنہیں دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ “اے” میں شامل ٹیموں کے ایک جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا اب تک ہونے والے کل نو ورلڈ کپس میں سے چار کی فاتح ٹیم ہے۔ 1987 میں پہلا کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی آسٹریلین ٹیم گزشتہ تین مقابلوں (1999، 2003 اور 2007)میں لگاتار فتح حاصل کرتی آرہی ہے۔ دفاعی چیمپئن ہونے کے ناطے کینگروز اس بار بھی فتح کا تسلسل برقرار رکھنے اور اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کی سرتوڑ کوشش کریں گے۔ سب سے زیادہ کرکٹ ورلڈ کپ اپنے نام کرنے کے اعزاز کے علاوہ بھی آسٹریلیا نے اس عالمی مقابلے میں کئی دیگر ریکارڈز قائم کررکھے ہیں جن میں ورلڈ کپ کے لگاتار 29 میچز میں فتح حاصل کرنا سرِ فہرست ہے۔ آسٹریلیا کے ورلڈ کپ اسکواڈ میں 2007 کے عالمی کپ میں فتح حاصل کرنے والی ٹیم کے پانچ کھلاڑی بھی موجود ہیں جس کے باعث آسٹریلیا کی ٹیم مضبوط پوزیشن میں آگئی ہے۔ ان کھلاڑیوں میں شان ٹیٹ، شین واٹسن، مائیک ہسی، مچل جانسن اور بریٹ لی شامل ہیں۔ تاہم آسٹریلین ٹیم حالیہ ایشز سیریز میں اپنی خراب کارکردگی اور دفاعی چیمپئن ہونے کے باعث دباؤ کا شکار بھی ہوسکتی ہے۔ مگر آخری وقت تک مقابلہ کرنے کی روایت کے سبب آسیز کا پلڑا اپنے حریفوں کے مقابل بھاری ہی رہنے کا امکان ہے۔ آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں پہلے نمبر پر آنے والی آسٹریلین ٹیم رکی پونٹنگ کی قیادت میں عالمی کرکٹ کپ 2011 اپنے نام کرنے کی مہم کا آغاز زمبابوے کے خلاف 21 فروری کو بھارتی شہر احمد آباد میں ہونے والے گروپ میچ سے کرے گی۔ جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کی قومی ٹیم کرکٹ کی تاریخ کی سب سے ‘غیر یقینی ٹیم’ قرار دیا جاتا ہے جو کسی بھی وقت کوئی بھی اپ سیٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر تو قومی ٹیم کپتان شاہد آفریدی کی قیادت میں اپنی پوری قوت کے ساتھ جم کر کھیلی تو یہ کئی بازیاں پلٹ سکتی ہے، تاہم حالیہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں دو اہم بالرز ، محمد آصف اور محمد عامر سے محروم ہونے اور گزشتہ سال سے مسلسل مختلف اسکینڈلز کی زد میں رہنے کے باعث پاکستانی خاصے دباؤ کا شکار ہوں گے۔ گو کہ پاکستانی ٹیم کا مورال نیوزی لینڈکے خلاف حالیہ ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز جیتنے کے بعد خاصا بلند تھا لیکن ورلڈ کپ سے عین دو ہفتے قبل آئی سی سی کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ سامنے آجانے کے بعد ٹیم ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہوسکتی ہے۔پاکستانی ٹیم گزشتہ کئی سیریز سے مسلسل تنازعات، پی سی بی کے عجیب و غریب فیصلوں، کھلاڑیوں کی باہمی چپقلش اور اندرونی اختلافات کے باعث میڈیا میں “ان” رہی ہے تاہم نیوزی لینڈ کے حالیہ دورے کے دوران ٹیم نے بڑی حد تک ماضی کے ان اثرات سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے کھیل بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ 1992 کے ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم 2011 کے عالمی مقابلے میں خود کو کس حد تک تنازعات سے بچاتے ہوئے بہتر کارکردگی پیش کرتی ہے۔پاکستان ورلڈ کپ کا اپنا پہلا میچ 23 فروری کو ہمبنتوتا، سری لنکا میں کینیا کے خلاف کھیلے گا۔سری لنکا کے بارے میں جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میزبان ٹیم سری لنکا کو ورلڈ کپ 2011 کیلئے فیورٹ قرار دیا جارہا ہے۔ 1996 میں ارجنا رانا ٹنگا کی قیادت میں سری لنکن ٹیم نے ہوم گراؤنڈ پر ہونے والے فائنل مقابلے میں آسٹریلیا کو سات وکٹوں سے شکست دے کر اب تک کا اپنا پہلا اور واحد ورلڈ کپ جیتا تھا۔اس بار بھی متوازن ٹیم سلیکشن اور ہوم گراؤنڈ ہونے کے باعث سری لنکنز کو ایونٹ کی بہترین ٹیموں میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے۔اس بار ٹیم کی قیادت کمار سنگا کارا کے ہاتھوں میں ہے جنہیں کئی کرکٹ تجزیہ کار راناٹنگا جیسی کرشماتی صلاحیتوں کا حامل کپتان قرار دیتے ہیں۔ورلڈ کپ 2011 کیلئے اعلان کی گئی سری لنکن ٹیم میں 1996 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے ایک کھلاڑی موتیا مرلی دھرن بھی شامل ہیں جو ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ بیٹنگ سائیڈ پر سری لنکنز کپتان سنگاکارا اور ان کے نائب مہیلا جیا وردھنے پر تکیہ کریں گے اور ان تین کھلاڑیوں کی کارکردگی ہی اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا ٹائیگرز 1996 کی تاریخ دہرا پائیں گے یا نہیں۔سری لنکا ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ 20 فروری کو ہمبنتوتا کے ہوم گراؤنڈ پر کینیڈا کے خلاف کھیلے گا۔اس گروپ میں شامل نیوزی لینڈ کے حوالے سے کہا گیاہے کہ بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کے ہاتھوں اپنی گزشتہ تینوں سیریز میں شکست کھانے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ 2011 میں خاصے دباؤ میں نظرآئے گی۔ ٹیم کا مکمل انحصار میچ کا پانسہ پلٹ دینے کی صلاحیت رکھنے والے دو کھلاڑیوں کپتان ڈینیل ویٹوری اور روز ٹیلر پر ہوگا اور عالمی کپ کے ابتدائی میچز میں ان دونوں کی کارکردگی ہی ٹیم کی دوسرے راؤنڈ تک رسائی حاصل کرنے کے امکانات کا تعین کرے گی۔ برینڈن مک کیلم کرکٹ ورلڈ کپ کیلئے کیویز کا ایک اہم ہتھیار ثابت ہوسکتے ہیں تاہم گزشتہ کئی میچز کے دوران ان کی غیر مستقل مزاجی کا مظہر کارکردگی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ان پر زیادہ انحصار کرنے سے روکے ہوئے ہے۔ نیوزی لینڈ 1975، 1979، 1992، 1999 اور 2007 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنلز تک رسائی حاصل کرنے کے باوجود اب تک ایک بار بھی کرکٹ کی دنیا کے اس سب سے بڑے اعزاز کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے اور اپنا آخری ون ڈے ایونٹ کھیلنے والے کپتان ڈینیل ویٹوری اس بار یہ اعزاز اپنی ٹیم کے نام کرنے کیلئے سرتوڑ کوششیں کریں گے۔ نیوزی لینڈ اپنا پہلا میچ کینیا کے خلاف 20 فروری کو بھارتی شہر چنائے میں کھیلے گا۔ایک اور ٹیم زمبابوے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ زمبابوے کرکٹ ورلڈ کپ میں اپ سیٹ کرنے والی ٹیم کے طور پر مشہور ہے۔ یہ ٹیم ماضی میں 1983 میں آسٹریلیا، 1992 میں انگلینڈ، اور 1999 میں بھارت اور جنوبی افریقہ جیسی اس وقت کی فیورٹ ٹیموں کو ہرا کر اپ سیٹ کرنے کا ریکارڈ رکھتی ہے۔2007 کے آئی سی سی کے ٹوئنٹی 20 ایونٹ میں زمبابوے نے آسٹریلیا کو ہرا کر ایک بڑا اپ سیٹ کیا تھا۔ کرکٹ ورلڈ کپ 2011 کیلئے اعلان کردہ زمبابوے کی ٹیم میں 2007 کے ٹوئنٹی 20 اسکواڈ کے بھی کچھ کھلاڑی شامل ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ زمبابوینز اس بار بھی کچھ بڑے اپ سیٹ کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور ان کی جانب سے بہتر کارکردگی اگر انہیں اگلے راؤنڈ میں نہ بھی پہنچا پائی تو وہ کسی فیورٹ ٹیم کو ایونٹ سے باہر کا راستہ دکھا سکتے ہیں۔بیٹنگ سائیڈ پر ٹاٹنڈا ٹائبو اور چارلس کووینٹری جبکہ رے پرائس جیسے بالرز کی موجودگی میں یہ ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ زمبابوے اپنا پہلا گروپ میچ 21 فروری کو آسٹریلیا کے خلاف بھارتی شہر احمد آباد میں کھیلے گا۔گروپ اے میں کینیڈ اکی ٹیم کے بارے میں جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا نے 2009 میں جنوبی افریقہ میں منعقد ہونے والے کوالیفائنگ راؤنڈ میں آئر لینڈ کو شکست دے کر ورلڈ کپ 2011 میں اپنی جگہ یقینی بنائی ہے۔ورلڈ کپ کے دوران ٹیم کا زیادہ تر انحصار برِ صغیر سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی و پاکستانی نڑاد کھلاڑیوں پر ہوگا جن میں رضوان چیمہ، عمر بھٹی، وکٹ کیپر اشیش بگائی اور آل راؤنڈر سنیل دھنی رام شامل ہیں۔کینیڈا ایونٹ کا پہلا میچ 20 فروری کو ہمبنتوتا میں میزبان سری لنکا کے خلاف کھیلے گا۔ کینیا نے سری لنکا، بنگلہ دیش ، زمبابوے اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کو شکست دے کر 2003 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرکے دنیائے کرکٹ کو حیران کردیا تھا۔ اسٹیو ٹکولو جیسے تجربہ کار کھلاڑی اور ایلکس اوبانڈا اور کولنز اوبویا جیسے بلے بازوں کی موجودگی کے باعث اس ٹیم کو اب بھی ایونٹ میں کچھ اپ سیٹ کرنے کی صلاحیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔ چائے کی پیداوار کیلئے مشہور افریقی ملک کی ٹیم ورلڈ کپ کا اپنا پہلا میچ 20 فروری کو بھارتی شہر چنائے میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گی۔